مخصوص لڑڪوں کی مخصوص ڪہانیوں میں خُوش آمدِید ۞ ڈراؤنی کلاسڪ سیریز ۞ اِس دُنیا سے اُس دُنیا تک | ایڪ لڑڪا گھر میں گھس آیا | پُراسرار لڑڪا اور میں پانچویں جماعت کا | جنات کے لڑکے | جناٺ میرے مہمان | دوسٺی تو تمہیں کرنا پڑے گی | دوسٺی نہ کرنا | سُفید جن | صحرا میں گلاب | کارساز روڈ کا پُراسرار لڑڪا | لال کوٹھی کا پُرسرار لڑڪا اور ڈراؤنی کارساز روڈ | لڑڪا ہاتھ سے نڪل گیا | مُحبَّٺ بَعد اَزمَرگ | مُحبَّٺ کا کالا جادو | نونے کی پیاسی رُوح | وہ لڑڪا کون تھا؟ نیلم آنکھوں والا | ڪالا لڑڪا

ROOHANI STORIES

مخصوص لڑڪوں کی مخصوص ڪہانیوں میں خُوش آمدِید ۞ خاص روحانی کہانیاں 32 ۞ لافانی لڑکا ۞ ابراھیم ۞ اس دنیا سے اس دنیا تک ۞ ایک لڑکا گھر میں گھس آیا ۞ بلو بوائز ۞ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ۞ پراسرار لڑکا اور میں پانچویں جماعت کا ۞ پروں والا لڑکا ۞ پیار امر ہے ۞ پیار میں عمر کی کوئی قید نہیں ۞ تم کتنے خوبصورت لڑکوں کو ڈس چکے ہو اب تک ۞ جنت کے لڑکے ۞ جنات کے لڑکے ۞ خوبصورت لڑکا براق پہ اور کتاب حیات ۞ حسن کا شہزادہ ۞ دوست کی عزت جاں نثار ۞ دوستی تو تمہیں کرنا پڑے گی ۞ دوستی نہ کرنا ۞ سروں والے لڑکے ۞ سفید جن ۞ صحرا میں گلاب کا پھول ۞ کاشف ۞ کارساز روڈ کا پراسرار لڑکا ۞ لاوارث لڑکا پناہ کی تلاش میں ۞ لڑکے کا بسیرا اور شہر خاموشاں ۞ لڑکا ہاتھ سے نکل گیا ۞ محبت کا کالاجادو ۞ میں تمہارے ہی گھر کا ہوں بیٹا ۞ میرا لڑکا گھر آیا ۞ نونے کی پیاسی روح ۞ وہ لڑکا کون تھا نیلم آنکھوں والا ۞ ڪالا لڑڪا

PBL URDU STORIES - AL-E-LOOT KI TABAHI - LOT LUT STORY - قومِ لوط

 




~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~






... 30-5-2024

قوم لوط آج کل تو یہ حرکات معمول کی بات ہیں۔  سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی ہی قوم تھی۔ یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت اوع سیکسی شکل کا لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے۔ طلموت میں لکھا ہے کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے۔ کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا۔ کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ 

کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس باغ میں وہ انتہائی بےحیائی کے ساتھ اعلانیہ بدکاریاں کرتے تھے۔ لڑکوں کے عضوتناسل دباتے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت لوط نے کہا تم  یہ کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔

 حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو؟۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔

 اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔ لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ 

اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل اور جبرائل  علیہ السلام تھے۔ اللہ نے انہیں خوبصورت اور سیکسی شکل کے لڑکوں کے روپ میں بھیجا کیانکہ وہ قوم خوبصورت اور سیکسی شکل کے لڑکوں کے ساتھ ہی مزے لوٹتے تھے۔ پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔ حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ یہ تو ان کے عضوتناسل دبا دیں گے۔

حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا۔ وہ بھی آپ پر ایمان نہیں لائی تھی اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی کہ لوط کے گھر دو نوجوان خوبصرت سیکسی شکلوں والے لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے حضرت لوط کے گھر پہنچے۔ حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں۔ اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں؟ مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ان لڑکیوں سے اپنے عضوتناسل دبواؤ۔

ان میں سے ایک بھی آدمی ایسا نہ تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔ قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے

 جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں خوبصورت لڑکوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔ ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے۔ فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بےبسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو تم اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ 

اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔ جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے اور بصارت ظائع ہوگئی۔

 یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔ اس وقت بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔ 

صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔ صبح سویرے شروع ہونے والا یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا۔

قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بدبودار اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ بحیرہ مردار بن گیا۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔

 تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔ شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے۔ کہتے ہیں ایک پتھر مینار یا انسانی روپ میں کھڑا ہوا ہے۔ اس کو لوط علیہ السلام کی بیوی تصور کیا جاتا ہے۔

یہ قوم اردن میں بستی تھی اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ یونانی تھے۔ البتہ اردن زیادہ قریب ہے۔ اس کے علاوہ لبنان تو بالکل ہی ساتھ ہے۔ دراصل ایک دن ایسا ہوا تھا کہ اصل ابلیس یعنی شیطان اس قوم کے پاس گیا اور خوبصورت، حسین اور باقاعدہ سیکسی شکل کے لڑکے کے روپ میں گیا۔ وہاں جا کر اس نے اس قوم کے ذہنوں میں یہ خیال ڈالا کہ لڑکوں کی خوبصورتی اور حسن کے مزے لوٹو اور لوٹنے کا طریقہ کار تک بتایا۔ اس طرح سے وہ قوم ان کاموں میں پڑی۔

آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے۔  روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے؟ ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔۔۔ اور مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ آج ہمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی تک حاصل ہے۔ اللہ ہماری دنیاوی اور آخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے آمین۔۔۔

دوستو! میں تو یہ کہتا ہوں کہ پیار تو آپ کرسکتے ہیں۔ پیار تو جائز ہے لیکن پیار میں سب کچھ جائز ہے تو یہ بات غلط ہے۔ پیار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اسلام میں نونا اوپر اٹھانا یا بڑا کرنا حرام ہے کہ اکثر اوقات دوستیوں میں تو نونا بھی اوپر اٹھ جایا کرتا ہے۔ یاد رکھیں کتا پیشاب کرتا ہے تو ٹانگ اٹھا دیتا ہے مگر اپنا نونا ہرگز اوپر نہیں اٹھاتا کہ نونا اوپر اٹھانا خلافِ اسلام ہے۔ 

یہ قوم صرف اور صرف خوبصورت، حسین اور سیکسی شکل کے لڑکوں کے ہی نونے دباتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں کچھ نہیں آتا تھا۔ اس لیے اللہ نے انہیں عبرت کا مقام بنا دیا کہ لوگ دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کریں۔ یہ قوم  پاگل تھی کہ صرف خوبصورت لڑکوں کے ساتھ ہی مزے لوٹتی تھی اسی لیے اللہ کو بھی خوبصورت اور سیکسی شکل کے حسین لڑکوں کے روپ میں فرشتوں کو بھیجنا پڑا۔

اسلام میں نونا اوپر اٹھانا یا بڑا کرنا حرام ہے۔ کتا پیشاب کرتا ہے تو ٹانگ اٹھا دیتا ہے مگر اپنا نونا ہرگز اوپر نہیں اٹھاتا کہ نونا اوپر اٹھانا عین خلافِ اسلام ہے۔ اسلام نونے کو بٹھا کر رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت واضح بیان کی گئی ہے۔ اس کی حفاظت کرنے کو کہا ہے۔ اس کا بڑا خیال رکھنے کو کہا ہے۔ ہاتھ لگانا تو دور کی بات بلکہ اسے بٹھا کررکھنا ہے، اسے تو بھول ہی جانا ہے کہ یہ بھی کوئی چیز ہے۔

اسلام میں تو اتنی سختی ہے کہ اگر میاں بیوی بھی یہ کام سب کے سامنے نمائش کے طور پر کریں تو 80 کوڑے سزا ہے۔ اگر دو لڑکے یا دو مرد یہ کام کریں تو سنگساری کی سزا ہے۔ لہٰذا نونا بٹھا کر رکھیں۔ اس کو بھول جائیں کہ یہ بھی کوئی چیز ہے۔

شکریہ۔

منجانب: شاہ کاشف فاروق۔

























....

No comments: